German
English
Turkish
French
Italian
Spanish
Russian
Indonesian
Urdu
Arabic
Persian

:سوال نمبر302

نئے عہد نامہ میں یسوع مسیح نے کہاں دعویٰ کِیا ہے کہ وہ خدا ہے اس لیے اس کی عبادت کی جائے؟ 

 

جواب:

۔اس سوال کے تسلی بخش جواب کے ضمن میں ہماری گزارش ہے کہ مندرجہ ذیل اہم اور توجُّہ طلب دو نکات ذہن نشین کیے جا سکیں تو ہمارے جواب کے سمجھنے میں  اور اس کی تہہ تک اترنے میں مناسب آسانی پیدا ہو جائے گی۔
(۱) مسیحیت کلامِ خداوندیسوع مسیح کو اس پیرایے میں نہیں لیتی جس پیرایے میں سُنّی اسلام میں ارشاداتِ حضرت محمدﷺ کو جانا، سمجھا اور ان پر عمل کِیا جاتا ہے۔ مسیحیت اس پر ایمان رکھتی ہے کہ تاریخِ بنی اسرائیل میں ثابت ہے کہ امرِ ربّی بالکل نمایاں طور پاسبانی و پاسداری کے لیے اُن کے شاملِ حال رہا اور یہ رضاے خداوندی و بنی آدم کے ساتھ، الٰہی جوڑ ذرا بھی ڈھکا چھپا نہ تھا، سب پر مکمل عیاں تھا۔  لیکن یسوع میں اپنے وجود کو، اپنی ہستیِ مطلق کو خدا نے یوں ظاہر کِیا جس طرح الٰہی رحم و رحمت اور محبّت جن کا عمل دخل سرایت کر جانا، مؤثر ہونا جبری نہیں ہوتا۔ یہ تووہ قوتیں ہیں جو موت کو بھی پچھاڑ دیتی ہیں۔
(۲) مسیحیت میں اس امرِ فطری کو خاص اہمیت حاصل ہے کہ طویل تاریخ کے دھارے نے وقت کے ساتھ ساتھ، خدا کے اپنے آپ کو اپنے لوگوں پر ظاہر کرنے کے عمل کی حقیقت اور اس کے عمیق ترین معانی و مقاصد کے فہم کو مسیحیوں کے سامنے روشن تر کر دیا، کوئی ابہام نہ رہا اور سب کچھ واضح سے واضح تر ہوتا چلا گیا۔
رہا یہ سوال کہ عہد نامۂ جدید میں ایسی کون سی آیات مرقوم ہیں جو خداوند یسوع مسیح کے خداوند خدا ہونے کا حوالہ بنتی ہیں یا خود یسوع نے کہا ہو کہ وہ معبود ہے لہٰذا لائقِ عبادت ہے۔ یعنی اس ایک میں تین اور وہ تین میں  ایک ہے، والا اعتراف و اظہار کہاں وارد ہے جسے جواز بنا کے یسوع مسیح کو ہی بطور خدا تسلیم کر لیا جائے۔ یہ عقائد تو جناب مسیحی روایات اور رسومِ عبادات کا جزوِ لاینفک ہیں جن کے بارے میں سوال اٹھایا گیا ہے۔ ان عقائد پر ایمان لانے کا مافیہ قطعی طور پر یہی ہے کہ درحقیقت، غیرمشروط و فیصلہ کن طور اور کسی کی بھی ہمسری کے بغیر قادرِ مطلق  خود خدا نے یسوع مسیح میں ظہور فرمایا اور قدرت والا فقط وہی ہے جو سراپا اُلفت و رحم و اکرام ہے اور موت و حیات سب اُسی کے تابع ہے۔ وہ جو چاہے، جب چاہے کچھ بھی کر سکتا ہے۔ غور کیے جانے لائق یہ ایک اہم نکتہ ہے کہ عہد نامۂ جدید میں شروع کی آیاتِ مقدس خداوند یسوع کے بارے میں اولین دلائل و ثبوت کے ساتھ مُعلِن ہیں کہ خداوند نے خاص ہماری خاطر موت کو گلے لگایا اور ہمارے لیے ہی خداوندِ قدوس نے اسے مُردوں میں سے زندہ دوبارہ جی اُٹھایا۔ یسوع ہی محبّت ہے، رحمت و برکت ہے اور بقا و فنا کا مالک ہے۔ اس دارِ فانی سے پردہ کر جانے کے چند ہی سالوں بعد اس کے بخشے ہوئے ٹھوس عقائد راسخ ہو کر مسیحیت بطور مذہب میں ڈھل گئے۔
”کیوں کہ سب سے اوّل مَیں نے وہی بات تم کو پہنچا دی جو مجھے بھی پہنچی تھی کہ مسیح نوشتوں کے موافق ہمارے گناہوں کے واسطے مرا۔
اور دفن کِیا گیا اور تیسرے دِن نوشتوں کے مطابق جی اُٹھا۔
اور کیفا کو اور اُس کے بعد اُن بارہ کو دکھائی دیا“۔
۱- قرنتیوں: ۳تا۵
تصلیبِ مسیح اور اُس کے جی اُٹھنے کے بارے میں تفصیلی بیانات میں حیاتِ مسیح کی ابتدائی کہانیوں میں جو بات سامنے آئی ہے وہ اس حقیقت کی مظہر ہے کہ خداوند یسوع کی وساطت سے خدا کو محض یہ مقصود و مطلوب نہیں تھا کہ وہ لوگوں تک بس اُس کا خصوصی الٰہی پیغام پہنچا دے بل کہ دنیا میں اس کی مجسم آمد اس لیے بھی تھی کہ وہ آ ئے اور آکر اسرائیل کے تمام لوگوں کی آس، امید اور مُرادوں کو پورا کر دے۔ یسوع میں خود خدا ہی جُملہ انسانیت کی اصلاح، فلاح، بہبود، شفا اور گناہوں سے مکتی کے لیے اُترا تا کہ الٰہی رحمت، برکت اور منشا سے اک جہانِ نو کی تعمیر وجود میں آئے جس میں بے قابو تشدد، عناد و خصومت اور نفرت و نفرین کا خاتمہ ہو۔ یسوع پاک بھی سدا اپنے اسی فرمان اور دعوے پر قائم رہا اور یہی وجہ ہے کہ تمام اناجیلِ مقدس  میں اسے موسوم کیے جانے کا حوالہ “LORD” کو بنایا  LORD JESUS یعنی خداوند یسوع، بالکل اُسی طرح پرانے عہد نامہ میں جیسے خدا کو خداوند کہا گیا ہے۔ نئے عہد نامہ میں بھی وہی رعایت قائم رہی۔
”کہ آج داؤد کے شہر میں تمھارے لیے ایک منجی پیدا ہوا۔ وہ مسیح خداوند ہے“۔
مقدس لوقا
۲:آیت۱۱
اگر یہ خود خداوندِ قدوس ہی ہے کہ مقدس یسوع میں اسی کے ذریعے یعنی اسی میں مجسم ہو کر کارفرما ہے تو گویا ہمیں پتا دیتا ہے، یہی سُجھاتا ہے کہ دراصل اس کی اپنی تجسیم کیاہے۔ پِھر تو یہی ثابت ہوا کہ یسوع پاک اور مقدس خدا باپ کوئی دو نہیں، ایک ہی ہے۔ مقدس یوحنّا کی انجیل پاک میں یہی مرکزی اہم ترین پیغام درج ہے جس نے مجھے پا لیا، اس نے خداباپ کو پا لیا.......
”یسوع نے اُس سے کہا کہ اے فیلبوس! مَیں اتنی مدّت سے تمھارے ساتھ ہُوں، کیا تُو مجھے نہیں جانتا؟ جس نے مجھے دیکھا ہے اُس نے باپ کو دیکھا ہے۔ پِھر تُو کس طرح کہتا ہے کہ باپ کو ہمیں دِکھا“۔
مقدس یوحنّا
۱۴: آیت۹
اور اس پر بھی غور فرمائیے.........
”اورکلمہ متجسد ہوا
اور ہم میں سکونت پذیر ہوا۔
اور ہم نے اُس کا جلال دیکھا۔
باپ کے وحید کا جلال،
فضل اور سچّائی سے معمور۔“
مقدس یوحنّا
۱:آیت ۱۴
اور......
”تب اُنھوں نے اُس سے کہا تیرا باپ کہاں ہے؟ یسوع نے جواب دیا تُم نہ مجھے جانتے ہو اور نہ میرے باپ کو۔ اگر تم مجھے جانتے تو میرے باپ کو بھی جانتے“۔
مقدس یوحنّا
۸: آیت ۱۹
مزید ایں کہ........
”اور جو مجھے دیکھتا ہے وہ اُسے دیکھتا ہے جس نے مجھے بھیجا ہے“۔
مقدس یوحنّا

۱۲: آیت ۴۵

Contact us

J. Prof. Dr. T. Specker,
Prof. Dr. Christian W. Troll,

Kolleg Sankt Georgen
Offenbacher Landstr. 224
D-60599 Frankfurt
Mail: fragen[ät]antwortenanmuslime.com

More about the authors?